۔۔۔ سولو سفر، سولو کیمپنگ میرانجانی محبوب۔۔۔ قسط 1

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اچانک سے اپنے فون کی اسکرین پر دیکھتے ہی خوشی کے مارے اُچھل پڑی۔۔۔
ہُرےےےےےے۔۔
ہزاروں کہانیون میں سے میں اسٹوری آف دی ویک کا مقابلہ جیت چکی ہوں، بھاگتے ہوئے امی جان کے پاس پہنچی اور اُن سے اپنے خوشی شئیر کر رہی تھی۔۔۔ اپنی اسٹوری پر آئے ہوئے کمینٹس پڑھ پڑھ کر اُن کو سنا رہی تھے اور وہ پھولے نہیں سما رہیں تھی۔۔۔
مثبت سوچ رکھنے سے آپ کے ساتھ سب اچھا ہونے لگتا ہے ، دکھوں کے سیاہ بادل چھٹ جاتے ہیں اور وقت تبدیل ہوجاتا ہے۔۔۔

زندگی میں کبھی کبھار ایسا وقت آتا ہے کہ جب اندھیروں کی دلدل میں اُمید کی کرن بھی غرق ہو رہی ہوتی ہے اور زندگی بے مقصد بن جاتی ہے۔
اُس وقت ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زندگی میں اب کچھ باقی نہیں رہا ۔ انساں شدید ڈپریشن کا شکار ہوجاتا ہے۔
ہم سے منسلک لوگ اور اُن کا بنایا ہوا ماحول ہی اس بیماری میں مبتلا کرتا ہے۔
ڈپریشن جب ھائیپر ڈپریشن میں تبدیل ہوتا ہے تو زیادہ تر لوگ اس کا حل خودکشی سمجھتے کیونکہ یہ بظاہر آسان حل ہے حالات سے فرار حاصل کرنے کا، اس طرح ہزاروں نوجواں اپنے جان گنوا بیٹھتے ہیں۔۔
اگر خالقِ حقیقی پر پختہ یقین ہو تو وہ اُسے راستہ ضرور دکھاتاہے۔

زندگی میں ایک ایسا وقت آیا جب زندگی بے مطلب ہو کر رہ گئی۔
جب میں اس اندھیروں کی دلدل میں غرق ہو رہی تھی تو سوچا
خود کشی کر کے ہر چیز سے فرار حاصل کر لوں۔۔
خالقِ حقیقی پر یقین ہونے کے باعث ایسا محسوس ہوا کہ الله دکھ دیتا ہے تو پہلے اُسے برداشت کرنے کا حوصلہ دیتا ہے ، یہ میرا امتحاں ہے اور مجھے اُس کے سامنے سر خرو ہونا ہے، شرمندہ نہیں۔۔۔
حالات سے ڈر کر زندگی ختم کر دینا حل نہیں پر ھمت سے مقابلہ کرنا ہی حل ہے۔
میں اپنے خانداں ، اپنے جاننے والی اُن سب لڑکیوں کے لئے مشعل راھ بننا چاھتی تھی جو کہ اگر میری جگہ ہوتی تو ھمت ہار کر جان سے ھاتھ دھو بیٹھتی یا پھر چُپ سادھ کر بیٹھ جاتی۔ اور گھُٹتی رہتی۔۔

“زندگی کے سفر میں آنے والا اندھیرا غار کا نہیں، سورنگ کا ہوتا ہے، جس کے اگلے سرے پر ھمیشہ روشنی ہوتی ہے۔
مگر یہ بات حوصلے کے ساتھ چلنے والے ہی جان سکتے ہیں۔ مایوس ہو کر بیٹھ جانے والے نہیں۔
(ابو یحییٰ)”

میں نے جس خاندان میں آنکھ کھولی وہاں مرد کو عورت پر ترجیح دی جاتی ہے اور دکھاوے میں عورت کو عزت سے چادر پہنا کر اپنی عزت کا بھرم رکھا جاتا ہے اور اندر میں اس کی سیلف رسپیکٹ کو کُچل کر اُس کی ہر پل تذلیل کی جاتی ہے۔۔میں اس میل ڈومینیٹنگ سوسائیٹی سے نفرت کرتی ہوں اور ان مرد حضرات سے بھی جو عورت کا احتصال کرتے ہیں۔۔۔۔

میری زخمی روح مرنے کو تھی، آخری ہچکیاں لے رہی تھی مجھے اُس کو بچانا تھا،اُس منفی سوچوں کے دھوئیں میں میری سانسیں گُھٹ رہی تھی ۔
مجھے کہیں دور کسے پہاڑ کی چوٹی پر کُھل کر سانس لینا تھا اپنے روح کو کھنکھتی ہوئی ہوا سے سرشار کرنا تھا
مجھے کہیں دور جانا تھا جہان یہ منفی سوچ کی گُھٹن نہ ہو۔۔مجھے وہاں جانا تھا جہاں میری روح کو سکوں مل سکے۔۔۔۔۔

سوچنے پر اس نتیجے پر پہنچی کہ جب آٹھ سو سال پہلے سَسُی ایک عورت ہو کر اس ہی میل ڈومینیٹنگ سوسائیٹی کا حصہ ہوتے ہوئے پنھوں کے عشق میں، اُس کی متلاشی بن کر مکران کے پہاڑ چڑھ سکتی ہے تو میں اس ٹیکنولیجی کے دور میں میرانجانی کی پہاڑی نہیں چڑھ سکتی کیا؟؟؟

اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ اس دور میں بھی کتنی مشکلات در پیش ہونگی۔۔۔

راہ دور عشق میں روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا
(میر تقی میر)

‎یہ مشکلاتوں کی شروعات تو اپنے گھر سے ہوئی جب اچانک ایک دن کھانے کی ٹیبل پر کھانا کھاتے وقت میں نے امی جان اور بابا سے بولا تھا کہ مجھے پہاڑوں میں جانا ہے۔۔
وہ ہکا بکا ہو کر مجھے دیکھنے لگے جیسے میں کوئی اور مخلوق ہوں اور ابھی مریخ سیارے سے اُتری ہوں۔۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ اس ٹیکنولجی کے دور میں بھی کیا کوئی ایسا گھرانہ ہوگا جہاں ایسے سفر کے لئے اجازت نہ ملتی ہو۔ پر ہاں یہ ایک تو ھمارا معاشرہ ایسا ہے اور دوسرا کچھ خاندان ایسے ہی ہیں ۔جہاں لڑکی تو دور کی بات لڑکوں کو بھی اجازت لینے کے لئے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ تو بات چل رہی ہے کھانے کی ٹیبل پر،
کھانے کی ٹیبل پہ یک دم خاموشی طاری ہو چکی تھی میں سمجھ چکی تھی کہ اجازت نہیں ملنے والی۔۔۔
پھلا سوال تھا کہ کس کے ساتھ؟
اُن کو اگر بتاتی کہ آپ کی شہزادی سولو کیمپنگ کا پلان بنائے بیٹھی ہے تو مجھے اُس وقت ہی کمرے میں بند کر دیا جاتا۔۔سولو سے سولی چڑھا دی جاتی۔
اُن کو میں نے بتایا کہ کسی گروپ کے ساتھ پہاڑوں میں گھومنے جانا چاھتی ہوں۔
کہا پاگل ہوگئی ہو ، کبھی تم گھر سے اکیلی نہیں نکلی ، پہاڑوں میں جاؤ گی۔۔ وہ دونوں روایتی ماں باپ کی طرح ریئکٹ کرنے لگے۔بابا نے تو مزید سوال پوچھے بغیر ہی سختی سے منع کر دیا پر امی میری آنکھوں میں پلنے والے خواب دیکھ رہی تھی۔۔۔ یہ درست بات ہے کہ اولاد کو اس کی ماں سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا۔۔۔
امی کو اپنے کمرے میں بٹھا کر ، اُن کے ھاتھ میں چائے کا کپ تھماتے ہی میں نے اپنی بات شروع کی۔۔۔
آپ جانتی ہیں کہ آپ کی بیٹی جو خواب دیکھ لے اُسے پورا کر کہ رھتی ہے، مجھے اجازت دلا دیں بابا سے ، آپ جانتی ہیں کہ اس خاندان میں ہر لڑکی کے خواب کُچل دیے جاتے ہیں اور انھیں فرسودہ رسموں کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، خاندان کی کوئی لڑکی آج تک کبھی فیملی کہ ساتھ بھی پہاڑوں اور جنگلوں میں نہیں گئی تو کیا آپ نہیں چاھتی کہ آپ کی بیٹی وہ انقلاب لائے، دوسری لڑکیوں کے لئے مشعلِ راھ بنے۔۔۔
وہ دھیاں سی میری باتیں سن رہیں تھی۔
یہ سلسلہ کوئی ایک ھفتے تک جاری رہا آخرکار امی مان گئی پر بابا ۔۔۔ وہ تو کسی ھٹلر سے کم نہیں لگ رھے تھے، یوں تو بےحد پیار کرتی ہوں میں دونوں سے پر میری فطرت ایسی ہے کہ میرے خوابوں کی بیچ جو بھی آئے وہ دشمن لگنے لگتا ہے۔۔۔
امی نے وعدہ کیا کہ وہ اُن کو منا لیں گی پر بابا ٹس سے مس نہ ہوئے۔ آخر کچھ دنوں کی منت سماجت کے بعد میں نے امی سے کہا کہ میں بابا کو بغیر بتائے جاؤں گی اور آپ پیچھے سب سنبھال لیجئے گا۔ واپس آتے ہی منا لوں گی۔۔۔
اس بات سے تو میں واقف تھی کی بابا کسی فلم کی طرح مجھے نہیں بولیں گے کہ
جا سمرن جا۔۔۔۔ جی لے اپنی زندگی!!!!!
‎بابا تو نہیں مانے پر انسان کے قدم اور اُس کا رزق جہاں لکھا ہوتا ہے تو وہ اپنے قدم روک نہیں پاتا۔۔۔۔۔
‎بابا جب صبح سو رہے تھے تب امی سے دعائیں لے کر گھر سے نکل پڑی۔۔۔
ارے ایک منٹ ۔۔
جناب رُکیے ذرا۔۔
ایسے ہی نہیں نکل پڑی گھر سے بلکہ کافی ریسرچ ورک کرنے کے بعد، راتیں راتیں جاگ کر گوگل سے معلومات لیتی رہی کبھی سولو کیمپنگ کے حوالے سے تو کبھی تیندوے ( leopard) سے سامنا کرنے کے حوالے سے, کبھی کسی آنلائن پیج سے کیمپنگ کی چیزیں منگواتی رہی تو کبھی اپنے گھر کی سیڑیاں چڑھتی اترتی رہی، کبھی کسی احباب سے میرانجانی کے ٹریک کے حوالے سے معلومات کرتی رہی تو کبھی مسافرِ شب کے میرانجانی کے حوالے سے رائیٹ اپس پڑھتی رہی ، اُن کی دی گئی تصویروں سے راستے کا تعیں کرتی رہی،

جب تیاری مکمل ہوگئی اور یقین ہو گیا کہ ہر چیز کو اکیلے سنبھال سکتی ہوں تو اس ساری تیاری بما سازوساماں کے نکلی،
گاڑی میں اپنا ساماں رکھ کر میرپورخاص سے حیدرآباد کی راھ لی۔۔۔

حیدرآباد پہنچح کر ڈایوو کے اسٹاپ پر کافی دیر انتظار کرنا پڑا، بس لیٹ ہوگئی تھی ۔۔
تین گھنٹے کی تاخیر کے بعد بس میں سوار ہوئی.. ونڈو سیٹ بُک کرائی تھی تو اُس سیٹ پر ایک آنٹی بیھٹی تھی.. ان سے معذرت کے ساتھ اپنی سیٹ کی درخواست کی ، راستہ طویل تھا تو ونڈو سیٹ ضروری تھی.
پہلے تو کافی دیر ہم چُپ رہے پھر بات شروع ہوئی ،اُنہوں نے پوچھا کہ کس کے ساتھ جا رہی ہو اور کہاں.. یہ کوئی خاص بات نہیں ہے، ہمارا معاشرہ ہی ایسا ہے کہ اکیلی لڑکی کو دیکھ کر ہزار سوال دماغ میں آتے ہیں۔
خیر ایک احباب کی بتائی ہوئی بات یاد تھی کہ دورانِ سفر کبھی اپنی صحیح اور ذاتی معلامات دینے سی گریز کرنا تو اس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی جارہی ہوں ماموں کے پاس گھومنے، کہنے لگی کہ ماموں کیا کرتے ہیں ، میں نے بتایا کہ اُن کا اپنا کاروبار ہے ، اُن کے سوالات چلتے رہے اور بعد میں اُنہونے میری امی کے نمبر
کی درخواست کر دی جو کہ مجھے بڑی عجیب بات لگی پر میں نے اُن کو آخری ڈجٹ غلط لکھوا دیا۔۔۔
آنٹی کی منزل سکھر تھی اور وہ رات کے تین بجے بس سے اُتر گئی.. اُس وقت تک کافی حد تک بس خالی ہوچکی تھی اور میری منزل آنے میں ابھی بھی کافی وقت پڑا تھا میں نے سوچا اب چونکہ دو سیٹس ہیں توٹیک لگا کر مزے سے سو جاتی ہوں، اپنی چادر درست کرتے ہوئے اپنی سیٹنگ کی اور آنکھیں بند کی ، ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ مجھے کسی کا ھاتھ اپنے شولڈر کے پاس محسوس ہوئا ، یکدم سے پریشاں ہوتے دیکھا تو میری سیٹ کے پیچھے جو حضرت تشریف فرما تھے یہ اُن کا ھاتھ تھا اور اپنی کوئی ہوس پوری کرنے کی خاطر کوشش کیے جارہے تھے.. پہلے تو میں دیکھ کر پریشاں ہوئی اور سوچا خاموشی سے اپنی سیٹ تبدیل کرلوں ، پر ان کو سبق سکھانا لازمی ہے ورنہ یہ حرکت دوبارہ بھی کریں گے اور یہ جُرئت جو یہ کر رہے ہیں یہ بھی کسی ممصوم لڑکی کی خاموشی کا نتیجہ ہے..

زمانے اب ترے مد مقابل
کوئی کمزور سی عورت نہیں ہے
( فریحہ نقوی )

IMG_0813.JPG

میں نے اپنے آگے بیٹھی ڈایوو کی میزباں خاتوں کو سیٹ کے پیچھے سے ھاتھ لگا کر اشارہ کیا تو انہوں نے پیچھے مڑ کر ساری حالت دیکھ لی اورانہونے اپنے ہاتھ سے اشارہ دیا کہ آپ خاموش رہیں میں دیکھتی ہوں پر مجھے اپنا کردار ادا کرنا تھا تو اُس آدمی کی زبان کے ساتھ ساتھ ہاتھوں سے بھی ایسی درگھٹ بنائی کہ اب ایسی حرکت کرنے کے لئے لاکھ دفہ سوچے گا۔..
پھر وہ میزباں خاتوں اور ڈایوو کا گارڈ بھی آگئے اور اُس انسان نما حیواں کو ذلیل کرنے لگے اور اُس وقت تک میرے کافی بھائی بھی بن گئے.. بس یہ وہ ہی مرد حضرات ہیں جو کہ پیٹھ پیچھے یہ ساری حرکتیں کر رہے ہوتے ہیں اور موقع ملتے ہی بھائی بن کر سپورٹ کرتے ہیں اور یہ ہی ہمارا معاشرہ ہے.. خیر میرا اسرار اس بات پہ تھا کہ اس حیوان کو ابھی روڈ پر اُتار دیں پر اُس کی منت سماجت اور معافی کے بعد بس کے عملے نے یہ طہ کیا کہ اسے اگلے اسٹاپ پہ اتاریں گے میں نے کہا کہ اگلے اسٹاپ پر اترے گا تو سب سے پچھلی سیٹ پر بیٹھ جائے..
“کیا کریں حساس دل کا.. “
اس کے بعد سب لوگ خوابِ خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے اور میں اُلو کی طرح آنکھیں کھولے سب کو دیکھ رہی تھی..اور کافی کچھ سوچ رہی تھی کہ ہمارا معاشرہ کیسا ہے،آخر کیوں یہاں عورت کو اتنا کمزور اور بےبس سمجھا جاتا ہے، اگر یہاں اس وقت میں اکیلی نہ ہوتی تو کوئی ایسی حرکت کرنے کے لئے سوچتا بھی نہیں.. پھر اپنے ساتھ والی دو سیٹس پر نظر دوڑائ جہاں دو لڑکیاں گھری نیںند میں تھی ، دونوں کے بال کھلے تھی جو کے اُن کے کندھوں تک تھے، دوپٹے تو نام کے گلے میں لٹکے تھے پر وہ دوپٹے کا کوئی کام سرانجام نہیں دے رہے تھے بس برائے نام تھے، مطلب آجکل کی ماڈرن لڑکیوں کا اسٹائیل تھا… یہاں یہ بات کرنے کا مقصد کسی کی تذلیل کرنا نہیں ہے، ہر کسی کا اپنا کردار ہے اور نا ہی آپ کپروں سے کسی کے کردار کو صحیح یا غلط بتا سکھتے ہیں، پر ہمارا معاشرہ ہی ایسا ہے، اُن دو لڑکیوں کو دیکھ کر یہ سمجھ آیا کہ میرے ساتھ جو حرکت ہونے کی کوشش کی گئی وہ میرے حجاب اور چادر کی وجہ سے ہے کیونکہ آجکل کے مرد سمھجتے ہیں کہ شاید حجاب میں ڈھکی لڑکی کمزور ہے اور اس کے ساتھ کچھ بھی ہو جائے یہ خاموش رہے گی چھپتی رھے گی جبکہ اس کی جگہ موڈرن لڑکی شور مچائے گی… اسی وقت مجھے سعادت حسن منٹو کی یاد شدت سے آنے لگی۔۔
منٹو کو میں سلام کرتی ہوں جو کہ اس سوسائیٹی کی کڑوی ، سچی ننگی باتیں بڑی صفائی سے بیاں کر گئے۔۔
کیا خوب فرما گئے ایسے مرد حضرات کے لئے کہ
“ہم عورت اُسی کو سمھجتے ہیں جو ہمارے گھر کی ہو، باقی ہمارے لئے کوئی عورت نہیں ہوتی بس گوشت کی دکان ہوتی ہے اور ہم اُس دکان کے باہر کھڑے کتوں کی طرح ہوتے ہیں، جن کی ہوس زدہ نظر ھمیشہ گوشت پر ٹکی رہتی ہے”

اس ہی طرح سوچتے سوچتے کافی وقت گزر گیا اور صبح کا سورج طلوح ہوتے دیکھا.
صبح کا سورج ویسے بھی نئی شروعات اور اُمید کی نوید ہوتا ہے۔۔ دل تو ویسے ہی دکھی تھا پر کہیں اندر کسی کونے میں ایک اُمید بھی تھی کیونکہ جو رب پہ یقیں رکھتے ہیں وہ کبھی ہارتے نہیں۔۔

ڈایوو کی بس اپنے اسٹاپ پر رکتی جاتی ہے۔۔ اور مسافر کھانے کے لئے یا حاجت کے لئے اترتے ہیں پھر پندرہ منٹ کے بعد دوبارہ چڑھتے ہیں۔ پہلی دفعہ اکیلے سفر کرنے والوں کو یہ بات دھیاں میں رکھنی چاہیے کہ دوبارہ اُس ہی بس میں چڑھے ، مھربانی فرما کر بس کے عملے کی شکلوں کو دھیاں میں مت رکھیے گا کیونکہ وہ بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں، میں نے بس کا نمبر نوٹ کر لیا تھا اور ہر بار وہ ہی کنفرم کرنے کے بعد بیٹھتی تھی۔
گاڑی اپنے جوش میں روڈ پر روا دواں تھی اور میں سوچوں میں ڈوبی تھی کہ راولپنڈی میں رکوں گی اور اس پیارے ملک کا خوبصورت کیپٹل بھی دیکھوں گی، دماغ میں بہت ساری جگہیں سوچی ہوئی تھی جو دیکھنی لازمی تھی جیسے فیسل مسجد، مونال رسیٹورنٹ،
سینٹورس مال ، مرگلا ھلز ، دامنِ کوھ ، پیر سوھاواہ ، سئید پور ویلیج، ٹرائیل ۵، ۔۔۔۔ پر کیا پتہ تھا کہ آگے کیا ہونا ہے۔۔
یوں ہی چلتے اور رکتے بس ایک خوبصورت روڈ پر اُنچی ہونے لگی، تب پتا چلا کہ اب قریب ہوں اپنی منزل کے، دیکھا تو پتہ لگا کہ یہ کلر کہاڑ کا موٹروے روڈ ہے ، پہلی دفہ زندگی میں کسی ایسے روڈ پر تھی جو یوں اُپر نیچے ہو رہا تھا اور موسم بھی بہت خوبصورت تھا، ہلکی ہلکی بوندا باری ہو رہی تھی۔۔ میں بے حد خوش تھی کہ شکر ہے اتنا طویل سفر اب ختم ہونے کو ہے۔
یہ خوشی تھوڑی دیر کے لئے تھی اور آگے آزمائشیں میرے استقبال کے لئے کھڑی تھی۔۔
راولپنڈی کے اسٹاپ پر اتر کر اپنا ساماں اُٹھا کر ٹیکسی لی اور اُسے ہوٹل چلنے کو کہا۔ اور سوچنے لگی کہ ابھی بس ہوٹل کے کمرے میں لمبی تاں کر سوں گی اور شام میں پنڈی شہر دیکھون گی پر پتہ نہیں تھا کہ یہاں کہ لوگ میرا کیسا استقبال کرنے والے ہیں۔۔ ہوٹل پہنچ کر پتہ لگا کہ جو روم میں نے فون پر بُک کرایا تھا وہ کسی اور کو دے دیا گیا ہے۔ اور وہاں کوئی کمرا نہیں ہے۔۔ ویسے یہ کوئی بڑی بات نہیں پر ایک لڑکی جو کہ اکیلے گھر سے نکلی ہو اور اُس کا اس شہر میں کوئی جاننے والا بھی نہ ہو تو اس کے پیروں تلے زمیں نکلنا تو جائز ہے۔۔۔
انہوں نے مجھے اور ہوٹلز کا بتایا کہ جہاں کمرا مل سکتا ہے۔ دوسری ہوٹل گئی اور اُن سے روم کا کہا اور وہ صاحب مجھے کہنے لگے کہ آپ کو روم نہیں مل سکتا !!!
کیوں بھائی پیسے دے رہی ہوں کوئی مفت میں تو نہیں رہ رہی ، کہنے لگے بی بی کہیں اور چلی جاؤ۔۔ اُن کا لہجہ کافی تلخ تھا اور وہاں تھوڑی دیر اور رکنا میری توہین تھی۔۔
دوسری ہوٹل گئی انہوں نے بھی اس ہی طرح جواب دیا، اور اس ہی طرح کا رویہ اختیار کیا، وہاں سے نکلتے مجھے ایسا لگا شاید غلط ہوٹلز میں جا رہی ہوں پر دیکھنے میں تو اچھے لگ رہے تھے، اسی طرح چار پانچھ ہوٹلز پھری پر ہرایک نے اس ہی طرح جواب دیا جیسے مجھ سے کوئی ذاتی دشمنی ہو اور ایک جگہ تو حد ہی ہوگئ ہوٹل والا بہت ہی بُری طرح سے مجھے سر سے لے کر پاؤں تک دیکھنے لگاجیسے ایکس رے کر رہا ہو۔۔
اور یہ ھماری قوم کہتی ہے کہ جینڈر ڈسکرپشن نہ دیا جائے ، پہاڑوں میں جانے والا ٹریکر صرف ٹریکر ہوتا ہے ، عورت ہونا کوئی کمال نہیں ہے۔۔
فرق تو رکھا جاتا ہے مرد اور عورت میں ، اور یہ فرق ظاھر ہونا بھی چاھئیے۔۔۔
یہ ہی ہے ہمارا معاشرہ جہاں عورت کو کمتر سمجھا جاتا ہے اگر وہ اکیلی ہے تو، اگر کسی مرد کے ساتھ ہے اور وہ چاھے اس کے ساتھ ناجائز تعلق رکھتی ہو پھر بھی اس سے کوئی سوال نہیں کیا جاتا۔۔۔
بس پھر اُس ھوٹل والے کو سنا کر وہاں سے نکل گئی اور پھر جس ہوٹل میں گئی وہاں کے مینیجر میں کچھ انسانیت تھی،  کہنے لگا کہ ہماری پالیسی نہیں کہ اکیلی لڑکی کو کمرا دیا جائے اس لئے معذرت، کیوں کے کچھ دن پہلے ہی کسی لڑکی کامعاملہ ہوا ہے لاھور کی کسی ہوٹل میں، (وہ تو الله جانتا ہے کہ اُس نے خودکشی کر لی یا اُس کا خون ھوگیا۔۔)
آپ کسی بڑے سے ہوٹل چلی جائیں آسانی سے کمرہ مل جائے گا۔۔ بڑے سے ہوٹل کا کرایہ بھی بڑا ہوگا اور ایک بجٹ ٹریلور تو کم خرچ کا سوچتا ہے ، خیر اُن سے درخواست کر کہ تھوڑی سی دیر لابی میں بیٹھ گئی اور ایک احباب کو فوں کیا ، ان کو اپنی پریشانی کا بتایا اور کہا کہ سوچ رہی ہوں پنڈی کے کسی پارک میں اپنا کیمپ لگا کر رات گزار لوں ، انہوں نے مجھ سے ایک سوال پوچھا کہ تمھاری منزل کیا ہے، ؟
“ویسے مسافر کا منزل سے کیا مطلب “
پر مجھے اُس مشکل وقت میں تو جواب مل گیا کہ فل حال منزل تو میرانجانی ہے۔۔۔! اور ابھی وقت پڑا ہے ، شام ہونے تک وہاں پہنچ جاؤں گی۔۔
بس پھر پنڈی کے سرد لوگوں کو الوداع  کھہ کر اُس ہی وقت نکل پڑی نتھیا گلی کے لئے۔۔۔۔

جاری ہے )۔۔۔۔۔۔)

Advertisements

4 thoughts on “۔۔۔ سولو سفر، سولو کیمپنگ میرانجانی محبوب۔۔۔ قسط 1

  1. After a long time i am reading something worth loving. exactly stigma with our society is like all that. Well hope people will understand all the consolation you want to give by writing that travel diary. Can’t wait for the other episodes. Mashallah keep it up Miss! 😊

    Liked by 1 person

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s