۔سولو سفر، سولو کیمپنگ میرانجانی محبوب۔۔۔ قسط 2

راولپنڈی کے ہوٹل سے نکلتے ہی نتھیاگلی کے لئے اپنا سفر جاری رکھا، ڈرائیور کو بتا دیا تھا کہ مجھے کچھ کھانے کی چیزیں لینی ہے تو کسی اسٹور پر گاڑی روک دے۔ کچھ دیر کے بعد اس نے ایک اسٹور کے سامنے گاڑی روکی، میں نے کچھ کھانے کی چیزیں خریدیں، واپس گاڑی میں بیٹھتے ہی چپس کا پیکٹ کھول کر کھانے لگی، جب غصے اور دکھ کے ملے جُلے جذبات اُچھل کر باھر آنا چاھے تو وہ  سارے جذبات کھانے پہ اترتے ہیں اور آج چپس کے پیکٹ کی شامت تھی۔۔
اس وقت اس معاشرہ کے جاہل مردوں پہ بہت غصہ تھا۔ 
گاڑی راولپنڈی کے جس روڈ سے گزر رہی تھی وہ ٹریفک سے بھرا پڑا تھا۔ میں بس اس شہر سے نکل کر کسی جگہ سکوں کرنا چاھتی تھی۔ 
یہ مری روڈ کہلاتا ہے تو اس پہ یونہی ٹریفک ہوتی ہے، 
کچھ  وقت گاڑی چلنے کے بعد روڈ کشادہ اور ٹریفک سے خالی ہوگیا۔
میں بے حد تھکی ہوئی تھی ، نیند کی شدت سے آنکھیں بند ہو رہی تھی۔ اکیلی ہونے کے باعث گاڑی میں سونا ٹھیک نہ تھا ، اپنے بیگ سے چیونگم نکال کر چبانے لگی تاکہ آنکھیں کُھلی رہیں، گاڑی یوں ہی حسین روڈ پر دوڑے جا رہی تھی ، میں اپنے خواب کو پورا کرنے کے قریب تھی۔۔۔
IMG_7151.JPG
میرانجانی نتھیا گلی کے قریب ضلع ایبٹ آباد  کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ 
اس کی بلندی 9,800 فٹ ہے۔ نتھیاگلی سے چوٹی تک پیدل 3 گھنٹوں میں پہنچ سکتے ہیں۔ راستہ سرسبز اور دلکش ہے، لیکن اکیلے ٹریک کرنے پہ پُر اسرار بھی ہوجاتا ہے۔۔۔ اگر مطلع صاف ہو توخوش قسمتوں کو اس کی چوٹی سے سینکڑوں کلومیٹر دور  محبوب ننگا پربت کا بھی دیدار نصیب ہوتا ہے۔
 
میرانجانی کو مردانہ قسم کا پہاڑ کہا جاتا ہے ، ڈونگا گلی سے پہلے سڑک پر میرانجانی ویو پوائنٹ ہے، 
سورج غروب ہونے کو تھا اور یہ شام والا منظر ھمیشہ مجھے افسردہ کر دیتا ہے۔
کچھ ہی دیر میں نتھیاگلی کے قریب پہنچ گئی تھی،  
ڈرائیور کو بتا دیا تھا کہ چرچ کے آس پاس جانا ہے تو تھوڑی دیر کے بعد 
سینٹ میتھیوز چرچ آگیا۔ 
بلیک اینڈ وائیٹ کے رنگ میں خوب جچ رہا تھا۔ یہ لکڑی کا بنا گرجاگھر اپنے اندر ایک عجیب قسم کی کشش رکھتا ہے، جو اسے دیکھ چکے ہیں وہ ہی جان سکتے ہیں۔
یہ سب وہ جگہیں ہیں جو کہ میں تصویروں میں دیکھتی تھی ، پر آج یہاں موجود تھی۔
IMG_9359.JPG
اس وقت پہلا کام ہوٹل جانا تھا۔
وہاں ہوٹل آرام سے مل گئی ۔ اپنا ساماں کمرے میں رکھ کر، فریش ہو کر کھانا وغیرہ کھا کر سوچا کہ آرام کر لوں کیونکہ کل مشن پہ نکلنا تھا۔ تھکاوٹ نے بدحال کیا ہوا تھا،
 پہلے رک سک ، کیمپنگ کا ساماں ٹھیک کر کے رکھا، کھانے اور ضرورت کی کچھ چیزیں  بیگ کے اُوپر والے حصے میں رکھی کہ جب ٹریک پہ بھوک لگے تو آرام  سے نکال کر کھا لوں۔ 
امی  کی یاد آرھی تھی تو اُن کو فون کر کہ اپنا مختصر احوال دیا اُن کو سولو کیمپنگ کے حوالے سے آگاہ کر کے دعا کی درخواست کی۔ 
امی واقف نہ تھی میرے سولو ٹرپ اور سولو کیمپنگ سے ، وہ حیران و پریشاں ہوگئی ۔
انہون نے کہا کہ اب اگر تم نے ٹھان ہی لی ہے تو کامیاب ہو کر آنا ، میں تمھارا روتا ہوا چہرا نہیں دیکھنا چاھتی۔  فون رکھتے ہی نیند نے گھیر لیا۔۔
صبح جب الارم نے اُٹھایا تو گھڑی میں صبح کے ۱۰ بج رہے تھے، دن جمعرات کا تھا، یہ دن مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہی تھی کہ میرانجانی کے ٹریک پہ ٹریفک نہ ملے۔۔ اور جنگلوں میں اکیلا جہاں گردی کا اپنا مزہ ہے۔
ناشتا وغیرہ کر کے تیاری پکڑ لی ، ہوٹل سے نکل رہی تھی تو ہوٹل والے نے پوچھا کہ آپ کیمپنگ کے لئے جاری ہیں، ہاں بولنے پہ وہ ہکا بکا ہوگیا اور کہا اتنا ساماں آپ کیسے اکیلی اُٹھاو گی، ہمارے پاس گائیڈ موجود ہیں ان کو ساتھ لے جائیں ساماں بھی اُٹھا لے گا ، راستہ بھی دکھائے گا، وہ درست سمجھے کہ اکیلی جا رہی ہوں۔
میں نے اُن سے کہا کہ میرے کچھ دوست میرانجانی کے اسٹارٹنگ ٹریک پہ میرا انتظار کر رہے ہیں ، اُن کے ساتھ گائیڈ ، پورٹر سب موجود ہیں۔۔۔ کسی طرح یقیں دہانی کروائی کہ اکیلی نہیں ہوں۔
سڑک پہ  چلتے چلتے دل کی دھڑکن تیز ہورہی تھی ، جہاں اپنے  خواب کو پورا ہوتے دیکھ کر خوش تھی وہاں ہی دل میں  بہت خدشے اور ڈر بھی تھا ۔۔ لیکن
” ڈر کے آگے جیت ہے”
 
وہاں سے سیدھا چلتے چلتے ایک موڑ آیا جو کہ سیدھا گورنر ہاؤس کو جاتا ہے اور میں دائیں طرف والی سڑک پہ چلتی رہی جو کہ سیدھا میرانجانی کے ٹریک کے آغاز میں لے گیا۔ وہاں پہ ایک بورڈ لگا ہے جس پہ تیندوے کے تصویر کہ ساتھ خبردار کیا ہوا ہے ، احتیاطی تدابیر میں پٹاخے پھاڑنے کے مشورے بھی دیے گئے ہے۔ وہ ہی شادیوں والے پٹاخے  ، وہاں پہ ایک کوٹھی بنی ہے جس پہ تالا لگا تھا اور ساتھ میں ہی بینچیں رکھیں ہیں جس کے اُوپر ٹین کی چھت ہے، وہاں بینچ پہ میں نے اپنا بیگ رکھا ، امی کو فون کر کے اطلاع دی کہ اب مشن شروع کرنے جا رہی ہوں، آج رات اُوپر کیمپ کروں گی، 
اُنہون نے ڈھیروں دعائیں دی۔
IMG_9357.JPG
میں نے الله کا نام لے کر ٹریک کا آغاز کیا۔۔
میرانجانی ٹریک 5 کلو میٹر لمبا اور مشکل ٹریک ہے، میرے جیسی لڑکی جس کی زندگی کا یہ پہلا ٹریک تھا ، اس ساماں کے ساتھ تو اور بھی مشکل لگ رہا تھا۔
میرانجانی ٹریک شروع سے ہی سختیاں پیش کرتا ہے اور سخت امتحاں لیتا ہے، یہ ہی وجہ تھی کہ ۵ منٹ چلنے کے بعد میری سانس پھولنے لگی پر اللهُ اکبر کے نعرے لگاتی چلتی رہی۔
 میں اپنے بلند حوصلے کی طرح اس راستے پہ  آھستہ آھستہ قدم بڑھا رہی تھی۔
پتھروں والا راستہ عبور کرتے کرتے ٹریک بلند ہوتا شروع ہوا اور آگے راستہ کچھ حد تک ہموار ہوگیا۔
 یہ اس قدر خوبصورت ٹریک ہے جہاں اُونچائی کو چھُوتے ہوا میں جھولتے چیڑ کے درخت اپنی ایک الگ دھن میں گُنگُنا رہے تھے ،وہ آواز میری روح تک کو سرشار  کر رہی تھی۔
وہاں میرے جوتوں کے چلنے کی آواز کے ساتھ ساتھ مختلف پرندوں کی چہچہاہٹ ،  جنگل کے کیڑوں کی ہزاروں قسم کی آوازیں میرے ساتھ قدم سے قدم ملائے چل رہی تھی ،  ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے یہ سارے منظر میں پہلے دیکھ چکی ہوں۔۔
اِس بات کا کریڈٹ مسافرِ شب کے رائیٹ آپس کو جاتا ہے۔۔
محمد احسن صاحب (مسافر شب) نے میرانجانی پر اتنے رائیٹ اپس لکھے ہیں کہ اب اگر وہ چاھیں تو اپنی لکھی ہوئی کتابوں میں اضافہ کرتے ہوئے میرانجانی پہ بھی ایک مکمل کتاب لکھ سکتے ہیں۔ 
ان کے لئے میرانجانی ایسا ہی ہے کہ ھر ویک اینڈ پہ چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے نکل پڑتے ہیں۔۔
 وہ تو اس بات سے اتفاق نہیں کرینگے، پر ھم سندہ کے رھنے والے بہت مشکل سے پہنچ پاتے ہیں اور وہ ہر ویک اینڈ پر ہی وہاں پہنچے ہوتے ہیں۔۔
کمال کا لکھتے ہیں اور اپنے راہیٹ اپس میں ایسا نقشہ کھنچتے ہیں کہ آپ اُن کی تحریر پڑھتے ہوئے اُن کے ساتھ محو سفر ہوتے ہیں اور مجھے جس طرح  ہر دوھرائے پر محسوس ہوتا تھا کہ یہ منظر میں پہلے دیکھ چکی ہوں تو اس کا سھرا اِن کے میرانجانی پر لکھے سفر ناموں کو جاتا ہے۔
میں  نے جو مدد اُن کے میرانجانی پہ لکھے رائیٹ اپس سے لی اس کے لئے میں ان کی تہہ دل سے مشکور ہوں۔
IMG_2048.JPG
میں اس خوبصورت منظر کو اپنے وجود میں سموتی ، اس ٹریک کو بھرپور طرح سے انجوائے کرتی اور تصویریں کھینچتے آگے بڑھ رہی تھی۔ ۔۔
اچانک سے کسی کے قدموں کی آواز سنائی دی، میں نے فوراٌ اپنے سیفٹی گئیر کی طرف ھاتھ بڑھاتے ہوئے الرٹ ہو ئی، پیچھے نظر دوڑائی تو دو آدمی دور سے چلے آرھے تھے وہ وہاں کے مقامی لوگ تھے میں اپنے دماغ کو الرٹ رکھتے ہوئے آگے قدم بڑھاتی گئی کہ وہ پاس سے گزرے ۔ سلام کرتے مخاطب ہوئے ، کہا کہ آپ اکیلی کہاں جارہی ہو؟ میں نے کہا کہ اکیلی نہیں ہوں میرے کچھ دوست  آگے نکل گئے ہیں اور کچھ پیچھے آرھے ہیں، اور ہم دگری بنگلہ کیمپنگ کے لئے جا رہے ہیں۔
“یہ چیز میں نے گوگل پہ پڑھی تھی کہ کبھی بھی ٹریک پہ اکیلے چلتے یہ ظاھر نہ کریں کہ آپ اکیلے سفر میں ہیں ۔”
وہ لوگ مجھ سے آگے نکل گئے ،میری نظریں انہیں پر تھی جبتک وہ کچھ دیر بعد آنکھوں سے اوجھل ہوگئے،
چلتے چلتے ٹریک پہ ایک جگہ ایک بڑا چوڑا درخت کا تنہ پڑا تھا ، میں وہاں کچھ دیر بیٹھ گئی ،پانی پیا اور خشک میواجات سے انصاف کیا۔ سوچ رہی تھی کہ یہ دنیا کس قدر ظالم ہوگئی ہے کہ انسان کوانسان سے خوف ہے۔
کچھ حد تک اس معاشرہ کا بھی قصور ہے۔ یہ محض ہماری سوچ اس معاشرے کی وجہ سے بنی ہوئی ہے کہ ہم  ہر بات میں منفی پہلو پہلے نکال لیتے ہیں، حقیقت کچھ الگ ہوتی ہے، 
ظاھری تو میں اکیلی ہوں پر حقیقت میں میرے ساتھ الله کی طرف سے کچھ خاص قسم کی مدد شامل تھی جو کہ میری ماں کی طرف سے پڑھ کہ پھونکی ہوئی دعائوں کی نورانی روشنی تھی جو میرے گرد ایک حصار بنائے ہوئے محو سفر تھی۔
وہاں میں نے دیکھا کہ گونگے استقبال کے لئے بیٹھے تھے ، گونگے ، سنیلز کو کہتے ہیں، اپنی زندگی میں اس طرح سے سانس لیتا گونگا دیکھ رہی تھی ورنہ ھمیشہ ٹی وی پہ ہی دیکھتی تھی، گونگے سے باتیں کرتے کرتے میں نے اُسے فوٹو شوٹ آفر کردی، اُس نے خوشی کے مارے ڈانس کرنا شروع کردیا۔۔۔۔
۔
“تو کھینچ میری فوٹو”
“تو کھینچ میری فوٹو”
“تو کھینچ میری فوٹو پی یا”
اُس کا فوٹوشوٹ کرتے آگے روانہ ہوئی۔
IMG_9358.JPG
میرانجانی میرے لئے مشکل لئے کھڑا تھا اور سخت امتحاں لے رہا تھا پر ایک طرح سے اُس راستے کہ ہوائوں سے لیکر پرند چرند، سب میرے استقبال کو کھڑے تھے جیسے سیگا کی سونک گیم میں ہوتا ہے ، وہ جو میں بچپن میں کھیلتی رھی وہ گیم پار کرتے ہی سونک کے ساتھ سارے پرندے ، تتلیاں،  سب ناچنے گانے لگتے ہیں۔۔۔
آخر کار جھیل پہ پہنچ گئی۔ جھیل کے پانی میں میرانجانی کا عکس آسمان کے نیلے رنگ کے ساتھ عجیب قیامت ڈھا رہا تھا، اندر خوشی سے اُچھل رہا تھا کیونکہ میرانجانی کا ٹریک پہ پہلا نظارہ اس جھیل پہ ہی ہوتا ہے پر اس بات سے بھی واقف تھی کہ اب ٹریک مشکل ہونے والا ہے۔
181.JPG 
میرانجانی کی طرف سے آتی آزمائیشوں کے لئے تیار تھی۔ 
جھیل کو عبور کرتے ہی مجھے محسوس ہوا جیسے میں بلند ہورہی ہوں، پر یہ انتہائی مشکل ٹریک تھا ، اچانک سے شدید گرج چمک ہونے لگی اور مجھے اندازہ ہوگیا کہ بارش شدید برسنے والی ہے، میں نے بنا کچھ دیر لگائے اپنا رک سیک اُتارا اُس میں سے واٹرپروف چھوٹا نارنجی رنگ کا تھیلا نکالا یہ خاص قسم کا تھیلا بڑی مشکلوں سے حاصل کیا تھا تو اب اس کے امتحاں کا وقت تھا، میں نے اپنے سارے الیکٹرونک آلات اس میں رکھے ، رین کوٹ پہننا، اور دوبارہ رک سیک اُٹھایا اور چلنا شروع کیا۔۔ میرے لئے اِس بھاری تھیلے کو اُتار کر واپس پہننا بھی عجیب مصیبت تھی، بارش شروع ہوئی پر میری سوچ سے زیادہ شدید برسنے لگی۔۔
“ہیں پتھروں کی زد پہ تمہاری گلی میں ہم
کیا آئے تھے یہاں اسی برسات کے لئے” (انور شعور)
 میرے تو چہرے کا رنگ ہی اُڑ گیا کیونکہ انتہائی مشکل چڑھائی چڑھ رہی تھی اور حالت یہ تھی کہ ہر دو قدم چلنے کہ بعد میں رُک جاتی، سانس بُری طرح پھول رہی تھی ، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ میں میدانی علائقی سے تعلق رکھتی ہوں اور پہلی مرتبہ اتنی بلندی پر تھی ، کچھ حد تک آکسیجن کی بھی کمی محسوس ہو رہی تھی۔ بُری طرح ہانپتی ، دو قدم چل کہ رُک جاتی ، اپنے آپ کو کوس رہی تھی جہ آخر کیا سوجی کی یہاں خوار ہونے آگئی ۔
 یکدم مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ رک سیک مزید بھاری  ہوگیا ہے جیسے کسی نے مزید کچھ کلو کی اینٹیں اس کے اُوپر اچانک سے لاد دی ہوں اور میرےکندھے ٹوٹ رہے تھے، ویسے بھی جن بھوت جیسی کسی طاقت کو پہلے محسوس ہی کیا جاتا ہے اور میرانجانی  ایک پراسراریت کاُمالک پہاڑ ہے۔
مجھے  فوراً  سے بچپن کا سنا ہوا ایک قصہ یاد آگیا، جو کہ بڑے بزرگ بتاتے  تھے کہ سچہ واقعہ ہے،  کہتے ہیں کہ 
ایک بندہِ خدا کسی جنگل سے گزر رہا تھا  کہ اُن کے سامنے ایک چھوٹا میمنا آگیا،  میمنا مطلب بکری کا  چھوٹا بچہ ، وہ اُن کو نظر انداز کر کے آگے چلے ، پر وہ بکری کا بچہ اُن کا پیچھا نہ چھوڑے ، اُچھل کُود کرتے دوبارہ اُن کے آس پاس منڈلاتا پھرے، تو اُن کو بھی غصہ آگیا ، سوچا اس کو اُٹھا ہی لیتا ہوں گھر پہنچ کر روسٹ کر کے تناول کروں گا، انہوں نے اُس بکری کے بچے کو اس طرح اپنے کندھے پہ بٹھایا کہ اُس کی دو ٹانگیں اپنے کندھے کے پاس اگے کی طرف اور باقی پیٹھ پر۔ جس طرح کسے چھوٹی بچے کو کندھوں پہ بٹھاتے ہیں۔
چلتے چلتے کافی وقت گزر گیا اور اُن کو اپنے کندھے بے حد بھاری محسوس ہوئے، اُنہوں نے مسئلے کو بھانپنے کے لئے پیچھے مُڑ کر دیکھا تو بکری کے بچے کو جہاں سے اُٹھایا تھا اُس کی پچھلی ٹانگیں وہیں چپکی تھی اور باقی وہ اُن کے کندھوں پہ تھا وہ سمجھ گئے کہ یہ کوئی جن بلا ہے، انہوں نے فوراً ہی اُس کو زمیں پہ پٹخا اور الله کو یاد کیا، وہاں سے آواز آئی کہ تمہارا مرشد زور ہے ورنہ آج نہ بچتے، قسمت اچھی تھی کہ بچ گئے ۔۔۔
ہائے مجھے تو لگا کہ یہ میرا رک سیک  یکدم سے جو بھاری ہوا ہے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ بیگ پہ کوئی جن بھٹائے چل رہی ہوں، 
کندھے ٹوٹ رھے تھے جیسے اس رک سیک کا آدھا حصہ  وہیں میرانجانی کے آغاز  والی جگہ بینچ سے چپکا ہوا ہے اور آدھا میں نے اُٹھایا ہوا ہےاور میں اس کو کھینچتے ہوئے یہاں پہنچی ہوں، مجھے ڈر لگ رہا تھا ،
الله کو یاد کرتے اُس رک سیک کو نیچے پٹخ دیا اور وہیں بیٹھ کر آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی ،  کچھ دیر کے بعد جب میں نے دیکھا کہ رک سیک بے جان ٹریک پہ پڑا ہے تو میں سمجھی کہ یہ محض  ایک نفسیاتی سوچ ہے ، تھکاوٹ کی وجہ سے یہ اُٹھایا نہیں جا رہا۔ 
میں تو پتہ نہیں کیا کیا سوچ رہی تھی ،  پھر  یہ بھی سوچنے لگی کہ کاش یہ میری ہائیکنگ اسٹک  زمین پہ مارنے سے کوئی معجزا ہوجائے کوئی جن اس میں سے نمودار ہو جائے۔
ہو ہو ہاہا کرتا ہوئا بولے کہ کیا حکم ہے میرے آقا۔۔۔۔۔
میں بولتی کہ  میں حکم دیتی ہوں کہ مجھے میرے ساماں کے ساتھ پلک جھپکتے میرانجانی کے کھنمبے کے پاس پہنچا دے، پر ایسا کہاں ممکن تھا۔۔۔ یہاں تو جان کی بازی جان سے تھی۔۔
IMG_2206.JPG
 میں ھمت ھارے وہاں بیٹھی تھی 
 بارش کی بوندیں ہر شے پہ ٹپک رہی تھی ، رک سیک سے لے کر میرے رین کوٹ اور ہائیکنگ اسٹک تک کو اپنے وجود سے تر کر رہی تھی اور ایسا نقشہ پیش  کر رہے تھی جیسے موٹے موٹے آنسو بھہ رہے ہو ، پھر میں نے محسوس کیا کہ یہ بارش تو میری بے بسی پہ رو رہی ہے اور اس کے ساتھ رک سیک سے بھی آنسو ٹپک رہے ہیں،  میرا رین کوٹ بھی رو رہا ہے، گلیات کا پورا جنگل مجھ پہ آنسو بہا رہا ہے کہ میں کمزور ہوں ، ہار چکی ہوں۔
پر حقیقت میں وہ بارش تو میرا چہرہ دھو رہی تھی، 
تھکاوٹ سے بدحال وہاں بیٹھی سوچ رہی تھی کہ اس معاشرہ کے مرد حضرات ٹھیک کہتے ہیں ، عورت حقیقت میں کمزور ہے ۔۔۔ اگر میری جگہ کوئی مرد ہوتا تو کب کا میرانجانی کے پاس پہنچا ہوا ہوتا۔۔۔
اُس وقت میرے سامنے میرا آپ مجھ سے ھمکلام ہوگیا، 
بلکل اُس ہی طرح جس طرح ڈراموں، فلموں میں اپنا خود کا ضمیر سامنے آجاتا ہے اور بات کرنے لگتا ہے، اس طرح ھمکلام ہوتے کہا : 
“نہیں!!!!!! تم کمزور نہیں ہو، تم ایک باھمت ، اور بہادر لڑکی ہو، اُن سب مردوں سے کہیں زیادہ مظبوط ہو جو عورت کی سیلف رسپیکٹ کو کُچل کر اُس کی ہر پل تذلیل کرتے ہیں، اُن کا ہر پل احتصال اور حق تلفی کرتے ہیں۔
اگر تم ابھی ھمت ھار کہ بیٹھ گئی تو اپنے ماں کو کیا جواب دوگی کہ تم اپنے مقصد میں ناکام ہوگئی؟؟؟ اُن کے الفاظ یاد کرو کہ انہونے کہا تھا کہ وہ تم پہ بھروسا کرتی ہیں۔  اور اُن سب لڑکیوں کا کیا ہوگا جن کہ لئے تم مشعلِ راھ بن کر اپنے گھر سے اکیلی نکلی ہو، کہ کل کو اگر تم کامیاب ہوگئی تو وہ بھی اپنے آواز اُٹھائیں گی ۔۔اور اُن مرد حضرات کو کیا جواب دوگی جو بولتے ہیں کہ پاکستانی عورت اُن کی مدد کے بغیر ہائیکنگ نہیں کر سکتی۔۔۔
اُٹھو مِسا ھمت کرو تم اپنے منزل کو پہنچنے والی ہو ،  تم اپنا خواب ابھی اس ہی پل پورا ہوتے دیکھنے والی ہو، اُٹھو ھمت کرو۔ اور جی لو اپنے خواب”۔۔۔۔۔
وہ کہتے ہیں نہ کہ :
“ھمت مرداں ، مدد خدا”
غیب سے ایک مدد آئی جس نے مجھے طاقت دی اور میں  اس بار  کچھ الگ ہی جوش و ولولے کے ساتھ اپنا رک سیک اُٹھائے دوبارہ اُٹھ کھڑی ہوئی اور پہلے سے زیادہ بلند حوصلے کہ ساتھ آگے قدم بڑھانے لگی۔
IMG_9360.JPG
جب انساں واقف نہ ہو کہ منزل ابھی کتنی دور ہے ، اور وہ  کچھ قدم چلتے ہی سامنے آجائے تو کس قدر عجیب کیفیت ہوتی ہے، اُن کو ہی پتہ ہوگا جس نے کبھی اس کیفیت کو محسوس کیا ہے۔
“اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے
منزل کے لئے دو گام چلوں اور سامنے منزل آجائے” (بہزاد لکھنوی)
میں میرانجانی کے پہاڑ پہ تھی
میرانجانی کا کھمبا سامنے تھا۔۔۔۔ 
بارش بھی تھم چکی تھی۔۔۔
 میں اپنی آنکھیں کھولے خوشی اور حیرت کے سنگم پہ کھڑی تھی۔۔ 
میرانجانی مجھے مُسکرا کر خوش آمدید کر رہا تھا، وہاں کی ہوائیں میرے  آنے کی خوشی میں رقص میں مگن تھی ، بارش کی وجہ سے مٹی سے اُٹھنے والی خوشبو میرے وجود کو صندل کر رہی تھی۔
” ھم تم ہونگے، بادل ہوگا
رقص میں سارا، جنگل ہوگا”
 IMG_9363.JPG
اچانک سے منظر بدل گیا،   موسم کا معجزا ہوا ، جہاں طوفانی بارش برسنے کی وجہ سے آسماں کہر زدہ تھا وہیں آسمان پہ سورج نکل آیا ، کھمبے کے سامنے سے سورج کی  سنہری کرنیں میرے چہرے کو بوسا دے  رہی تھی ،مجھے اندازہ  ہوگیا کہ اس پہاڑ نے مجھے کس شدت و چاھت سے بُلایا ہے۔۔ میں مسکراتی ہوئی اُس منظر کو دیکھتی رہی کہ سورج بھی خوش آمدید کرنے چلا آیا ہے، 
میں بھاگتی ہوئی کھمبے کے پاس پہنچی ۔ میرانجانی کا سحر انگیز حسن میرے سامنے تھا،بے حد حسین منظر میری آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہا تھا۔ آسمان پہ نیلے، سفید ، لال ،سُنہری رنگ پھلیے تھے، ہر طرف درختوں سے چھُپی ڈھلوانے تھی،  گلیات کا گھنا جنگل اور مختلف پہاڑی سلسلے اتنی اُنچائی سے بے حدبھلے معلوم ہو رہے تھے ۔  وہ منظر اس قدر خوش کن تھا کہ ٹریک کی مشکلاتیں اور تھکاوٹ کے اثرات کو ختم کر رہا تھا ۔ اس بلندی سے اتنا وسیع علاقہ میں اپنے آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔ ۔۔۔
 میرے خواب کی تعبیر میرے سامنے تھی۔۔۔۔
میں اپنا خواب جی رہی تھی،
میں نے سجدہِ شکر بجا لایا۔
الحمدالله۔۔۔۔
“کیسی آگ ہے یہ تیرا جُنون
ہر رنگ میں ، میں رنگ بھروں
پرواز کو میں کُھل کے بھروں
دل چاہے جو، میں وہ ہی کروں
کسی سے نہ ڈروں۔۔۔۔
خواب جی لے، یار جی لے
سوچتا کیوں ہے ، کیا ہوگا کل
جی لے ہر پل۔۔۔۔”
ننگا پربت کا دیدار نصیب نہ ہوا ، اس طرف بادل چھائے تھے۔ 
میں نے سوچا کل صبح تک کا وقت ہے ، شاید صبح میں دیکھ لوں۔
“مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ “۔ (علامہ اقبال)
سورج غروب  ہونے کو تھا، میں وہاں کھمبے سے تھوڑا آگے کونے پہ بیٹھہ گئی اور اپنا فیورٹ سونگ چلا لیا۔۔۔۔
“تیرے عشق میں جو بھی ڈوب گیا
اُسے دنیا کی لہروں سے ڈرنا کیا”
 IMG_9364.JPG
 اب مرحلہ خوفناک تھا۔۔۔۔
کیونکہ شام ہونے کو تھی ، سورج غروب ہورہا تھا اور شام ہونےکے ساتھ اندھیرا تیزی سے پھیل رہا تھا۔۔۔
( جاری ہے) ۔۔۔۔۔۔
Advertisements

4 thoughts on “۔سولو سفر، سولو کیمپنگ میرانجانی محبوب۔۔۔ قسط 2

  1. wahhhhh,buht he khub…jany ko to yeh nachez b 3 bar Meranjani py gya ha mgr bahadur larki tum ny hiking mn he nhe likhny mn b kmal dkhaya ha…shabash youni likhti reho or naey naey jahano sy khud b rushnas ho or humy b faizyab kro,u have good skills for both things.waiting for next episode and waiting for next hiking trip.

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s