۔۔۔ سولو سفر، سولو کیمپنگ میرانجانی محبوب۔۔۔ قسط 3

اگلا مرحلہ خوفناک تھا۔۔۔۔
کیونکہ شام ہونے کو تھی ، سورج غروب ہورہا تھا اور شام ہونےکے ساتھ اندھیرا تیزی سے پھیل رہا تھا اور سردی میں بھی اضافہ ہونے لگا تھا۔ 
اب میرا سب سی پہلا کام اپنا کیمپ لگانا تھا،  
 
“برسات تھم چکی ہے مگر ہر شجر کے پاس 
اتنا تو ہے کہ آپ کا دامن بھگو سکے
اے چیختی ہواؤں کے سیلاب شکریہ
اتنا تو ہو کہ آدمی سولی پہ سو سکے” ( احسن یوسف زئی)
 
کھمبے کے پاس کافی پانی جمع تھا اور وہاں کیمپ لگانے کی صورت میں ساری رات تیز ہوائوں کے ساتھ اُڑتے رہتی۔۔۔ 
اس وجہ سے کیمپ کھمبے سے تھوڑا نیچے بائیں طرف سلوپ پہ لگایا تاکہ اگر دوبارہ بارش ہو تو میری کیمپ کہ قریب پانی جمع نہ ہو۔
IMG_0068.JPG 
کیمپ لگانے کے بعد اپنا رین کوٹ کیمپ کے اُوپر باندھ دیا اور آگ جلانے کے لئے لکڑیاں اکھٹی کرنے لگی۔۔
تھوڑا کیمپ سے دور ایک جگہ کچھ پتھر اکھٹے کیے اُن سے ایک دائرہ بنا کر بیچ میں لکڑیاں رکھ دی، مجھے یاد آیا کہ میں مٹی کا تیل لانا بھول گئی ہوں اور اب آگ کیسے جلاؤں گی وہ بھی گیلی لکڑیوں سے۔ میرے پاس ایک خاص قسم کی لکڑی کا بھُورا تھا جو گیلا ہونے کی صورت میں بھی آگ پکڑ لیتا ہے، میں بھاگتی ہوئی گئی اپنے کیمپ سے وہ لکڑی کا بھورا ، واٹرپروف ماچس لے آئی۔ تھوڑا دونھا برداشت کرنے کے بعد آگ جل گئی۔ وہ خوشی میں بیاں نہیں کر سکتی، دونھیں کہ وجہ سے انکھوں سے آنسو جاری تھے اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ۔۔
آنسو اور مسکراہٹ کا سنگم جب ہوجائے تو احساسات کے ٹو کی چوٹی چھو رہے ہوتے ہیں۔۔
آگ کے اس گول دائرے پہ میں اکیلی نہیں بیٹھی تھی ، میرے ساتھ اُن سب جہاں گردوں کی روحیں تھی جو وہاں مزے میں تھی ، مجھے دیکھ کر بے حد خوش تھی ۔ اُن سے ملاقات حسین رہی، انہوں نے میری روح کو دعوت دی اپنے ساتھ رہنے کی تاکہ اُس پہ عشق کہ مزید رنگ آشکار ہو سکے۔ میں نے بھی ہامی بھر لی کیونکہ بات بس سے نکل چکی تھی۔۔۔۔
اتنی زیادہ دیر تو آگ نہیں جلی پر اتنا ہوگیا کہ میری سردی کچھ حد تک کم ھو چکی تھی۔ اندھیرا پھیل چکا تھا۔لیکن متلا صاف نہ تھا ، ایک ستارہ بھی آسماں پہ نہ تھا، گھپ اندھیرا چاروں طرف پھیلا تھا،  بارش کے آثار عروج پہ تھے۔ کچھ دیر بعد بارش شروع ھوگئی ، میں بھاگتی ہوئی اپنے کیمپ میں گھس گئی، اندر جاتے ہی ٹارچ آن کرنے سے کیمپ روشن ہوگیا تھا۔
اب جو مرحلہ تھا وہ کھانے کا تھا، میں نے اپنا لائیٹ ویٹ چولھا نکالا اور اُس کو جلا کے ھاتھ بھی سینکے اور نوذلز بھی بنائے۔ اس اُنچائی پہ ٹینٹ میں بیٹھ کہ نوڈلز کھانے کا اپنا مزا ہے۔کھانے وغیرہ سے فارغ ہو کہ اپنے نرم سلیپنگ بیگ میں لیٹ گئی ، ٹھنڈ بڑھ چکی تھی جو کہ مجھے اپنے سلیپنگ بیگ میں بھی تنگ کر رہی تھی ، بارش کہ قطرے ٹینٹ پہ گر کہ بادلوں کی گرجنے کی آواز کہ ساتھ سر ملا رئے تھے۔ مجھے سردی بہت پریشان کرنے لگی تو میں نے سوچا چولھا جلالیتی ہوں کہ کچھ گرم ہوجاؤ ، ماچس کی تیلی جلائی وہ چنگاری پکڑ کہ ٹھس  ہوجاتا، پوری آدھی ماچس کی ڈبیا جلا لی پر تیلی نے آگ نہ پکڑی، آخر مجھے آحساس ہوگیا کہ لائیٹر ساتھ لانا چاھئیے تھا۔ 
سگریٹ  نہ پینے والے کیا جانے لائیٹر کی اھمیت۔۔
میں تو آج لائیٹر کی قیمت جان گئی تھی۔
کیمپ میں دھواں بھر چکا تھا، جس کی وجہ سے سانس لینے میں دقت ہونے لگی ، میں نے ٹینٹ کی کھڑکی کھولی تو بارش کی پھُوار  کے ساتھ تیز ٹھنڈی ہوا اندر داخل  ہوئی ، تو میں نے ٹینٹ کی کھڑکی بند کرتے ہی اپنے سلیپنگ بیگ میں لیٹ گئی۔ 
جس طرح گلاس میں برف یا ٹھنڈا پانی ڈالنے کے کچھ دیر بعد گلاس کے باھر پانی کے قطرے بہنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ اس ہی طرح میرے ٹینٹ کی دیواریں بھی پانی سے تر تھی پر وہ مجھے تنگ نہیں کر رہی تھی، کچھ دیر بعد بارش بند ہوئی تو ہواوں کی آوازوں نے ڈرانا شروع کر دیا
یک دم سے ایسی آواز کانوں میں پڑتی جیسے کوئی دیو آگیا ہو۔
اگر میں چاھتی تو کانوں میں ٹونٹیاں ڈالے بے خوف ہوجاتی۔ پر کیمپنگ اور ھائیکنگ کا بیسک رول یہ ہے کہ
“اپنی آنکھیں اور کان کھلے رکھیں”
کافی وقت گزر جانے کے بعد میری آنکھ لگ گئی ، میں سکون سے اس خوفناک جگہ پہ سو رہی تھی کہ اچانک  سے میرے آنکھ کھل گئی ،مجھے اپنے کیمپ کے باھر کسی کا وجود محسوس ہوا، میں پریشان ہوتے کیمپ میں اٹھ بیٹھ گئی، ایسا لگ رہا تھا جیسےدائرے میں  میرے کیمپ کے چاروں گرد کوئی چکر کاٹ رہا ہو، وہ کوئی انسان نہیں تھا پر جانور تھا جو کھانا ڈھونڈنے آیا تھا، غالبناً ایسے نوڈلز کی خوشبو آگئی تھی، 
میں نے بھی کھانے کا ساماں ٹینٹ میں رکھا ہوا تھا جو کہ مجھے کہیں ٹینٹ سے دور رکھ کہ آنا تھا۔
اس کے چکر کاٹنے کے ساتھ ساتھ میری نظریں بھی چکر کاٹ رہی تھی، الرٹ ہوئے میں اس انتظار میں تھی کہ یہ کب اپنا منہ ٹینٹ میں گھسا دے۔۔
اُس وقت میری کیا حالت تھی یہ وہ بخوبی جان سکتے ہیں جو کبھے اس طرح تیندوے کا وجود محسوس کر چکے ہیں، میرے چہرے کا رنگ زرد ہو چکا تھا اور سانس روکے میں اُس کے قدموں کو محسوس کر رہی تھی،کچھ وقت ڈرنے کے بعد  میں نے فوراٌ اپنے فون میں یاسیں لگا لی ۔۔۔ 
جیسے ہی یاسیں بلند آواز میں کیمپ میں گونجنے لگی اس کے قدموں کی آواز  کم ہوتے ہوتے دور ہوتے محسوس ہوئی اور آخر بند ہوگئی۔ تب جان میں جان آئی۔
کہتے ہیں وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت ہو رہی ہو وہ گھر آسمان سے کسی ستارے کی مانند چمکتا ہوا دکھتا ہے، مجھے محسوس ہوا کہ یاسین کی آواز گونجنے کی وجہ سے میرا ٹینٹ بھی آسمان سے چمکتا دکھ رہا ہوگا اور آسمان سے ایک نورانی روشنی آرہی ہوگی جو ڈاریکٹ میری کیمپ پہ پڑ رہی ہے اور وہ اس نور سے روشن ہوگیا ہے۔۔
 اُس نور کی روشنی میں سکون سے سو گئی۔
جب آنکھ کھولی تو صبح کی روشنی پھیل چکی تھی جس کی وجہ سے کیمپ بھی روشن ہورہا تھا، گھڑی میں صبح کے 6 بج رہے تھے۔ میں نے ٹینٹ سے باھر دیکھا تو ہر طرف شدید دھند اور بادل چھائے ہوئے تھے۔
IMG_9571.JPG 
میری زندگی کی خوبصورت تریں صبح تھی  ، یہ صبح میں کبھی نہیں بھول سکتی۔ کیونکہ زندگی کی قیمت جان چکی تھی۔
کیمپ سے باھر نکلی تو شبنم نے میرے چہرے کو غسل دیا۔۔۔۔
 
باھر جاتے ھاتھ منہ دھویا اور چائے بنا کر کپ ھاتھ میں پکڑے کھمبے کے پاس جا رہی تھی ، دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی کیونکہ میں محبوب ( ننگا پربت ) کا دیدار کرنے والی تھی۔ 
 IMG_9573.JPG
” میرانجانی کی چوٹی پر پہنچیں تو ننگا پربت نظر نہ آئے ۔۔۔ یہ کیفیت بھی کافی جان لیوا ہوتی ہے۔۔ ایک کیفیت اور بھی ہوتی ہے ۔ 
لا علمی کی کیفیت ۔ میں نے ٹریک پر اوپر سے آنے والے بہت سے ٹریکروں سے ننگا پربت کے متعلق پوچھا تو اُنہیں معلوم ہی نہ تھا کہ وہاں ٹاپ سے ننگا پربت بھی نظر آتا ہے۔ میں نے دل میں سوچا کہ بھائی پھر اپنے جان کو اتنے جوکھوں میں ڈالنے کی کیا ضرورت تھی ؟” ( مسافرِشب)
یہ تو میں خوش قسمت تھی کہ میرانجانی پر جانے سے پہلے مسافرِ شب کے رایٹ اپس پڑھ چکی تھی اور یہ علم رکھتی تھی کہ ٹاپ سے ننگا پربت کا دیدار بھی نصیب ہو سکتا ہے، ورنہ میں بھی اُن ہی بد قسمت ٹریکروں میں سے ہوتی جو کہ ایوئیں میں اپنی جان جوکھوں میں ڈالتے ہیں۔
یہ بات بھی علم میں ہونی چاھئیے کہ کس سمت میں اُس کو ڈھونڈھا جائے۔۔
ٹاپ پہ پہنچتے ہی میں نے اپنی نظریں شمالی سمت میں گھمائیں۔۔۔
پر وہ نہ تھا ، شدید دھند دور تک پھیلی تھی۔۔۔
یہ شدید جان لیوا کیفیت تو جان نکال رہی تھی
IMG_9572.JPG ، 
 
ایک رات وہاں گزارنے کہ بعد بھی اُسے میری محبت کا آحساس نہ ہوا۔۔ 
“یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مر گئی ہیں” 
اُس کو دیکھنے کے لئے جو بے چینے تھی وہ عجیب حالت تھی پر اُس نے تو رسوا کر دیا۔۔
“جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں 
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں”
یہ جو دل میں درد اُٹھا تھا اس نے بڑی آگ لگا دی تھی۔۔ اس رسوائی سے دل ٹوٹ چکا تھا اور حالت رونے جیسی تھی۔۔ 
نا اُمیدی کفر ہے، اور میں اس چیز پر یقین رکھتی ہوں کہ جو ہوتا ہے وہ ہمارے بھلے کے لئے ہوتا ہے، ھم ایک پانی کے قطرے کے لئے ترس رہے ہوتے ہیں پر وہ ہمیں دریا دینا چاھتا ہے، رب کی طرف سے بھتری ہوتی ہے ۔۔۔
اس ہی طرح میں اُس کا دور سے دیدار کرنا چاھتی تھی پر وہ مجھے اپنے پوری جاہ و جمال سے ملنا چاھتا تھا۔
 میری حالت دیکھ کر اُس نے مجھے مزید تڑپانا چاہا ۔۔۔ اور سخت امتحان لینے کے لئے چُن لیا اور یہ میرے لئے خوشی کی بات تھی۔
مجھے کیا پتہ تھا کہ وہ تو چاھتا ہے کہ میں اُس کے قدموں کے بوسے لوں۔
اس لئے میرے قدم وہیں سے فیری میڈوز کے لئے لکھ چکے تھے اور میں  اس بات سے لا علم تھی ۔۔ اس لئے واپس پنڈی پہنچتےدو دن بعد فیری میڈوز کے لئے روانہ ہو گئی۔
فیری میڈوز کے سفر کی داستاں الگ سے لکھوں گی۔ دیدارِ یار یوں ہی بیان نہیں ہو جاتا ۔۔۔
کیفیت طاری ہوتی ہے اور تمہید باندھنی پڑتی ہے۔
 
“میرانجانی ٹاپ ایک بہتریں منزل ہے۔مگر یہ ایک ایسی منزل ہے جہاں سے آگے کی اعلیٰ منازل ایک منظر میں آجاتی ہیں۔ اس لحاظ سے میرانجانی ٹاپ کو میں ذاتی طور پر “مجازی منزل” سمجھا ہوں کیونکہ  اس کی چوٹی پر پہنچ کر ” حقیقی منزلیں” بالکل عیاں ہوجاتی ہیں”( مسافرِ شب) 
میں منفی سوچوں کی ماحول سے فرار حاصل کر کے ، کُھلی ہوا میں سانس لینا چاھتی تھی پر یہاں تو کچھ اور ہی رنگ تھے۔۔۔
میرانجانی پر اس شدید دھند میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میری روح میرے جسم سے پرواز کر چکی ہے ،  میری روح کا مرنے کے بعد کا سفر جاری تھا۔۔ میں اپنے پروردگار کو بے حد قریب سے محسوس کر رہی تھی جو شاید کبھی نماز پڑھتے وقت بھی نہیں کر پائی،
جیسا کہ سندہ کی مشہور صوفی شاعر شاھ عبدالطیف بھٹائی نے فرمایا ہے کہ 
“روزو نماز پنڻ چنڳو ڪم 
پر اوھو بیو فھم ، جو پسي پرین کي”
“روزہ اور نماز بھی اچھے کام ہیں
پر وہ کچھ اور کام ہے جس سے محبوب رضامند ہو جائے”
سارا معاملا کنیکٹیویٹی کا ہے۔ جیسے فون میں نیٹورک ٹھیک ہوتا ہے تو کنیکٹیویٹی میں آسانی ہوتی ہے، اس ہی طرح یہ معاملا تو روح کا ہے ، جو اپنے بنانے والے سے کسی بھی وقت ، کہیں بھی کنیکٹ ہو سکتی ہے پر اس کے لئے بہتریں جگہ کسی پہاڑ کی بلندی ہو سکتی ہے۔
یہ ہم پر ڈپینڈ کرتا ہے کہ ہم اپنا رابطہ اُس سے کیسا رکھتے ہیں۔
رب پر ہمارا ایمان کیسا ہے؟
کیا کبھی سوچا ہے کہ اُس سے کنیکٹیویٹی کتنی ضروری ہے؟؟
مظبوط ایمان کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر کی سختی دور کرنا ضروری ہے۔  چٹان کی طرح مضبوط ایمان کیلئے کسی پرندے کے پروں سے بھی زیادہ نرم دل درکار ہے۔ ہماری رندگی میں دکھ اس لئے آتے ہیں تاکہ ہمارے قلب نرم اور کشادہ ہو سکے۔
ہمارے قلوب اتنے کشادہ ہوں کہ تمام انسانیت اس میں سما سکے اور اسکے بعد بھی ان میں مزید محبت کی گنجائش باقی رہے۔۔۔۔
بیشک وہی ہے جو رات کو سونے کے بعد دوبارہ زندہ کرتا ہے، ہر ایک پل اسُ ہی کے  تابع ہے۔ میں سوچتی تھی کہ خدا آخر کیا ہے؟ سورہ نور کی یہ آیت سامنے آجاتی تھی پر میں اس کو کبھی سمجھ نہیں سکی، اور ایک رات میرانجانی پر گزار کر یہ راز افشاں ہوگیا۔۔
وہ سورہ نور میں فرماتا ہے: 
“الله آسمانوں اور زمین کا نور ہے” 
الله  جسے چاہتا ہے اپنی روشنی کی راہ دکھاتا ہے، الله ہر چیز کا جاننے والا ہے۔بیشک
رب کے نور کی روشنی سارے کائنات میں پھیلی ہوئی ہے۔ 
میرا رب کی ذات پر یقین پختہ ہوگیا اور مجھے فقط اُس کی ذات پر توکل کرنا آگیا۔۔
IMG_0069.JPG
مجھے کافی آحباب یہ کہتے ہیں کہ اکیلا جا کر میں نے بیوقوفی کی ہے کیونکہ اگر کوئی ساتھ ہوتا ہے تو ایک قسم کا تحفظ ہوتا ہے۔
اُن سب کو یہ جواب دینا چاھتی ہوں کہ جس انسان کا اپنی اگلی سانس کا بھروسہ نہیں وہ کسی دوسرے کو کیا تحفظ دے گا۔؟؟؟؟
اگر وہ ذات چاھے تو آپ اپنے گھر کی چار دیواری میں اپنے باپ بھائیوں کے ساتھ بھی محفوظ نہیں لیکن جنگل میں اکیلے رات گزار کر بھی مکمل محفوظ رھ سکتے ہیں۔ یہ تو اُس پاک پروردگار کی شان ہے ۔۔۔۔
 میں جہاں تھی اُس کیفیت سے نکلنا مشکل تھا، میں بڑی مشکل سے وہاں کیمپ کے پاس گئی، اپنا ساماں باندھا اور واپسی کی تیاری شروع کردی۔ 
ٹرائےپوڈ کی مدد سی اپنی تصویریں بھی بنائی۔
اپنا رک سیک اُٹھایا ، میرانجانی سے دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے واپسی کی راہ لی۔
IMG_9574.JPG
واپسی اترتے ہوئی آسانی ہو رہی تھی۔ اس کی وجہ میرے رک سیک  کچھ وزن کم ہو چکا تھا۔ 
ابھی اُس جگہ پہنچی تھی کہ جہاں سے دگری بنگلہ کے لئے راستہ نکلتا ہے تو ایک خوبرو نوجواں پہ نظر پڑی ، تقریباً چھ فٹ تین انچ لمبا قد تھا۔ اُس کی آنکھیں گہری اور بھوری اور دل آویز تھی۔ وہ ہیوی قسم کا رک سیک اُٹھائے میری طرف قدم بڑھا رھا تھا۔ 
قریب آتے ہی وہ مخاطب ہوا کہ “میرانجانی پر کیمپنگ کی ہے کیا ؟ میں نے کہا ہاں۔۔
کہنے لگا کہ میں دگری بنگلے سے آرہا ہوں ۔
آپ گروپ کے ساتھ ہیں؟
میں نے کہا ہاں۔۔ میرے سارے دوست سب آگے نکل گئے ہیں۔
پر اب  دل میں سوچنے لگی کہ یہ دوست کہاں سے لاوں گی۔؟؟
خیر باتیں ہوتی رہی اور نیچے ساتھ اُترتے رہے۔
وہ اپنے مختلف ٹرپس کا ذکر کرنے لگے اور ہم باتیں کرتے تیزی سے نیچے کا ٹریک کر رہے تھے۔
 IMG_9575.JPG
 جب جھیل پر پہنچی تو وہاں گُڈ گائیز ڈھیرہ جمائے بیٹھی تھی۔ اور وہیں ایک درخت پر ایک مقامی خاتوں چڑھی ہوئی تھی، کچھ توڑ رہی تھی، اُن کو دیکھ کر میں سوچ رہی تھی کہ عورت ہو کر درخت پر چڑھی ہیں ، عورت ہر طرح سے مظبوط ہے اور وہ ہر نا ممکن کام سر انجام دے سکتی ہے۔ عورت ، عورت ہی ہے چاھے پہاڑوں پر چڑھے یا پھر اپنے گھر کا چولھا چلائے۔۔
کچھ احباب کہتے ہیں کہ
” ٹریکر ، ٹریکر ہوتا ہے چاھے مرد ہو یا عورت، “
  
” پہاڑ آپ سے نہیں پوچھتے ہیں کہ آپ مرد ہیں یا عورت”
 
لیکن پہاڑی لوگ ضرور دیکھتے ہیں کہ آپ مرد ہیں یا عورت؟
میرا ماننا ہے کہ عورت ٹریکر ہونا کمال ہے کیونکہ یہ فرق تو الله کی طرف سے ہے، عورت صنفِ نازک ہے، وہ مرد نہیں بن سکتی لیکن ھمت کرنے پر آئے تو مرد سے زیادہ حوصلہ رکھتی ہے، ھیوی رک سک اُٹھائے پہاڑ بھی چڑھ سکتی ہے، اور جنگلوں میں درخت بھی چڑھ سکتی ہے۔
اس سوسائیٹی میں عورت کے حوصلے کی کمی نہیں، کمی ہے تو مرد کے اعلیٰ ظرف کی، جو کہ عورت کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتے۔
 IMG_9616.JPG
میں نے اُس مقامی عورت کو درخت پر چڑھے دیکھ کر فوراً اپنا فون کا کیمرہ کھولا پر اُس نے دور سے چلا کر کہا کہ میری تصویر مت لینا۔ میں نے اپنا فون واپس رکھ کر اُسے ایک تھمبس آپ دکھایا اور وہ ھنس پڑی۔
پھر جھیل سے تھوڑا آگے دوبارہ گائے آگئیں، اُن کی ٹکروں سے خود کو بچاتے چلتی رہی۔۔ ۔
IMG_9577.JPG
 IMG_0071.JPG
گزشتہ شب و روز بارش برسی تھی تو ہر طرف سبزہ نکھرا تھا اور سارے درخت دھلے لگ رہے تھے جیسے ابھی نہا کر نکلے ہوں۔
مدھوش کرنے والی خوشبو ہر طرف پھیلی تھی۔
 IMG_9579.JPG
 IMG_8837.JPG
میں نے سوچا تھا جمعہ کا دن ہے تو شاید ٹریک پر کوئی نہ ملے پر تھوڑا آگے چلتے کچھ لوگ ملے، جن میں سے ایک حضرت گھوڑے پر سوار تھے اور باقی دو پیدل ٹریک کر رہے تھے، ہمیں دیکھ کر اُنہوں نے سلام کیا اور مخاطب ہوتے کیمپنگ کا پوچھا۔ میں خاموش رہی پر میرے ساتھ والے ٹریکر نے بتایا کہ جی کیمپنگ کر کے آرھے ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اتنا ساماں اُٹھا کر آپ اُوپر تک گئے ہیں ، ہم سے تو ہمارا آپ بھی اُٹھایا نہیں جا رہا ہے، اور ہم تو یہ دیکھ کر حیران ہیں کہ کوئی لڑکی بھی یوں سامان اُٹھائے ٹریک کر سکتی ہے ، ہم تو اپنی زنانیون کو گھر پر بٹھا کر آتے ہیں، پر آپ نے ہمیں غلط ثابت کر دیا۔۔
تالیوں کی آواز گونجنی شروع ہوگئی۔۔ 
وہ سمجھ رہے تھی کہ شاید ہم ساتھ ہیں۔ پر اِس وقت خاموش رہنا بھتر تھا۔۔
اندر میں پریشان تھی کہ یہ ٹریکر تو ساتھ ہی چل رہا ہے ، اب دوست کہاں سے لاؤن گی؟؟؟
 IMG_7723.JPG
چلتے چلتے ایک اور لڑکا ملا اُس نے مجھے دیکھ کر کہا کہ میرے دو دوست نیچے ھمت ھارے بیٹھے ہیں ، آپ پلیز اُنہیں تھوڑا حوصلہ دے دیجئے گا۔
میں نے ہامی میں سر ھلا دیا، نیچے جا کر دیکھا دو لڑکے ٹریک پر بد حال بیٹھے تھے ۔ میں نے انھیں اپنا رک سیک دکھا دیا اور وہ کھڑے ہو کر چلنے لگ گئے۔۔۔ کچھ کام  اشارون سے بھی ہو جاتے ہیں۔۔۔
  
چلتے چلتے میرانجانی کا اسٹارٹنگ ٹریک آنے والا تھا ۔۔
ہم قدم ٹریکر پوچھنے لگا کہ آپ کے دوست کہاں ہیں؟؟
میں نے کہا کہ وہ سب آگے نکل گئے ہیں شاید اب تو ہوٹل بھی پھنچ چکے ہونگے۔۔
وہ کہنے لگا کہ میں نے آج تک ایسا کوئی گروپ نہیں دیکھا جس میں کسی فیمیل میمبر کو اس طرح اکیلا چھوڑ کر سب آگے نکل جائیں۔۔
آپ اکیلی ہیں۔۔ میں جان گیا ہوں۔۔
وہ ساری بات بھانپ چکا تھا اس لئے مزید جھوٹ بولنا شرمندگی ہوتی۔
میں نے کہا ہاں جی جناب ۔۔
اکیلی ہوں اور میرانجانی پر سولو کیمپنگ کی ہے ۔۔۔
کہنے لگا مجھے تو جھیل پر پہنچتے پتا چل چکا تھا پر میں خاموش تھا۔ 
سولو کا سن کر اُس نے بڑی پزیرائی کی۔ اور کہا کہ پیچھے ٹریک پر اُس لڑکوں کے گروپ نے آپ کے لئے تالیاں بجائی تھی۔کیونکہ مجھے تو بہت سارے گروپ ملے آج تک کبھی کسے نے رک سک دیکھ کر تالیاں نہیں بجائی۔۔ آپ قابلِ ستائش ہیں۔۔
اُن کی پزیرائی سے کافی حوصلہ ملا اور مستقبل کے ٹریکس کے لئے دعائیں۔۔ 
کبھی مل جاتے ہیں ایسے لوگ زندگی میں جو کچھ ہی لمحوں میں گہری چھاپ چھوڑ جاتے ہیں اور اُنہیں یاد کر کہ روح کو تسکین ملتی ہے۔۔۔
میرانجانی کے اسٹارٹنگ ٹریک پر پہنچتے میں نے ہوٹل کی راہ لی۔۔۔
( جاری ہے) ۔۔۔۔۔
Advertisements

2 thoughts on “۔۔۔ سولو سفر، سولو کیمپنگ میرانجانی محبوب۔۔۔ قسط 3

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s