۔۔۔ سولو سفر، سولو کیمپنگ میرانجانی محبوب۔۔۔ آخری قسط

ہوٹل پہنچتے کچھ دیر آرام کیا اور فریش ہوکر باھر گئی سوچا کچھ کھا لوں گی اور نتھیا گلی کو تھوڑا ایکسپلور کر لیتی ہوں،
وہاں بازار میں دو ہوٹل ہے ، دونوں کے نام ایک جیسے ہیں بس رنگ کا اور ہوٹل کے اندر کی لائیٹنگ کا تھوڑا فرق ہے، ایک سرخ ہے تو ایک سبز، میں سرخ رنگ والی ہوٹل میں گئی ۔ کیونکہ سرخ میرا پسندیدہ رنگ ہے ۔وہاں جاکر فرائیڈ رائس اور منچوریں کھایا۔ بہت بھوک لگی ہوئی تھی شاید اس لئے اتنا لذیذ لگا۔۔اُس کا تیز اور کھٹا میٹھا ذائقہ اب بھی میں محسوس کر سکتی ہوں۔ میرے زندگی کا سب سے لذیذ چائینیز کھانا تھا۔۔
ویسے تو چائینیز کھانا پھیکا ہوتا ہے پر پاکستانی چائینیز کا اپنا ٹیسٹ ہوتا ہے۔۔
  IMG_0086.JPG
وہاں سے نکلتے ایوبیا چیئر لفٹ کی سیر کو نکل گئی۔
 چئیر لفٹ والی جگہ پر پہنچ کر اُس میں سوار ہونے کے لئے تھوڑا پیدل چلنا پڑتا ہے ، وہاں لوگوں کا ھجوم تھا، کافی لوگ فیملیز کو ساتھ لائے تھے، وہاں کافی مختلف دکانیں بھی  تھی جس پر ھینڈی کرافٹ کی چیزیں، کھلونے ، اور گرم کپڑے دستیاب تھے۔۔
اور ہر دو قدم چلنے کے بعد پھس پھس والی مشین لگی تھی جہاں سے لذیذ کافی، چائے اور گلابی چائے میرا مطلب ہے کشمیری چائے ملتی تھی۔ میں نے بھی کشمیری چائے کے مزے لئے۔۔
IMG_9615.JPG
ٹکٹ لینے کے بعد چئیر لفٹ میں سوار ہونے کے لئے کافی وقت لائن میں کھڑا ہونا پڑا۔ آخرکار میری باری آگئی۔  چئیر لفٹ والی جگہ پر خود کھڑے ہوجائے وہ لفٹ آپ کو خود لفٹ کر لیتی ہے، بس میں بھی سوار ہوگئی اور ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا چھوٹا ھیلی کاپٹر ہے جو میں چلا رہی ہوں، آھستہ آھستہ اُونچائی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اور ایک جگہ بجلی گم ہوگئی  اور لفٹ رُک گئی۔۔  اور میں بیچ راھ میں ٹنگی ہوئی تھی ۔ہر طرف شدید دھند تھی اور بڑے بڑے درخت تھے۔۔
سرِ راہ بیچ میں لٹک کر ، ہوا میں معلق ہو کرُ زندگی بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
جہان دل میں اندر سے مطمئن تھی کہ جو چاھتی تھی وہ حاصل کر لیا وہاں ہی اب میں مکمل تبدیل ہوچکی تھی ، میں اب وہ مِسا نہ تھی جو ڈری ہوئی اکیلی گھر سے نکلی تھی، اور ہر چھوٹی بات پر پریشان ہوجاتی تھی۔
میرا دنیا کو دیکھنے کا نظریہ بدل چکا تھا۔
زندگی ہمیں پھولوں سے سجا راستہ دکھا کر پتھروں اور کانٹوں بھرے راستے پر چلاتی ہے اور ھم کیونکہ اُس سے ناآشنا ہوتے ہیں تو پل پل تکلیف برداشت کرتے ہیں اور آخر سیکھ جاتے ہیں۔
“سب سے بہتریں سبق وہ ہوتا ہے جو ہم خود چوٹ کھا کر حاصل کرتے ہیں، کتابوں اور مشاہدوں سے انسان سیکھتا ضرور  ہے مگر جو بات خود تکلیف سہہ کر سمجھ میں آتی ہے وہ کوئی دوسرا نہیں سمجھا سکتا۔۔۔” ( نامعلوم)
IMG_9583.JPG
زندگی کتنی ہی دشوار کیوں نہ ہوجائے ، مایوس نہیں ہونا چاھئے کیونکہ مایوسی کفر ہے۔ ہم خالقِ حقیقی کا اُس وقت تو شکر ادا کرتے ہیں جب زندگی میں سب اچھا چل رہا ہو ، پر اُس وقت شکوہ شروع کردیتے ہیں جب حالات ہمارے خلاف ہوجائیں۔
جب وہ پرندہ جس کا طوفانی بارش میں گھونسلہ تباہ ہوجاتا ہے ، صبح ہوتے ہی کوئی شکوہ کرنے کے بجائے الله کی حمدوثنا میں مصروف ہوجاتا ہے ، تو ہم اشرف المخلوقات ہو کر کیا اُس کے شکر ادا نہیں کرسکتے ؟؟؟
 کہ شاید اس میں بھتری ہو، ہمیں اپنے آس پاس مثبت پہلو دیکھنا چاھئیے تکہ زندگی سہل ہوجائے۔۔۔
IMG_9576.JPG
جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں یہ مردوں کا بنایا معاشرہ ہے۔ یہاں دو طرح کی عورتیں ہیں، ایک وہ جو ساری زندگی غلام بن کر جوتیاں پالش کرتے اور کھاتے گزار دیتی ہیں۔ کمپرومائز کے نام پر گھر بساتے مر جاتی ہیں اور دوسری وہ جو اپنا آحتصال ہوتے کبھی برداشت نہیں کرتی اور اپنے حق کے لئے آواز بُلند کرتی ہیں۔۔۔
بھینس اور عورت میں کچھ تو فرق ہوتا ہوگا، ایک ھی لاٹھی  سے تو ھانکا نہیں جا سکتا ، لیکن ہانکا جاتا ہے۔
مرد کو خدا نے حاکمیت کا عنصر بخشا ہے اور میزانِ عدل بھی عنایت کی پر اس مرد ذات نے عورت کے سارے حقوق صلب کر لئے۔۔۔۔
میرا شمار اُن عورتوں میں نہیں ہوتا جو سوچتی ہیں عورت ، مرد کے شانہ بشانہ ہیں۔۔۔۔
میں سوچتی ہوں کہ عورت صنفِ نازک ہے اور مرد اُس کا حاکم۔۔ یہ مرد کا کام ہے کہ جہاں عورت کی حق تلفی ہو جہاں اُس کا آحتصال ہو وہاں اُس کا حامی و ناصر بنے، پر اگر وہ حق غضب کرنے والا بن جائے تو عورت کو خاموش نہیں رہنا چاھئیے۔۔۔
221.JPG
نتھیا گلی گھوم کر واپسے راولپنڈی کی لئے روانہ ہوئی ، جس ہوٹل میں اپنے گھر سے فون پر بُکنگ کروائی تھی انہوں نے کمرے کا آج کے دن کا وعدہ کیا تھا ، اُن کو کال کر کے کنفرم کیا اور سیدھا ہوٹل پہنچی۔
وہاں  دو دن آرام کیا اور اسلام آباد، راولپنڈی کو ایکسپلور کیا۔۔۔۔
ہم چیزوں کو ایک منفی نظریے سے دیکھتے ہیں، یہ وہ ہی سوچ ہوتی ہے جو بچپن سے ہمارے دماغ میں فیڈ ہوتی ہے۔ ہمیں اتنی توفیق نہیں ہوتی کہ ہم خود ایکسپلور کر کے پھر  اُس بات کی تصدیق کریں۔
جس طرح ایک سوچ یہ بھی ہے کہ اکیلی لڑکی سفر نہیں کر سکتی۔
یہاں ضرورت ہے تو ہماری مثبت سوچ کی۔۔ ہمارا ملک پاکستان بے حد خوبصورت اور محفوظ ہے۔
اِس ملک کی بیٹی بہادر ہے اور باآسانی  اکیلے گھوم سکتی ہے۔۔۔
IMG_9585.JPG
مثبت سوچ کے ساتھ اِس سفر کا آختتام یہیں تک۔۔۔۔
(((((۔ ۔ختم شد۔ ۔ ))))))
IMG_9620.JPG
Advertisements

16 thoughts on “۔۔۔ سولو سفر، سولو کیمپنگ میرانجانی محبوب۔۔۔ آخری قسط

  1. Hats off
    Really wonderful and totally amazing story. I salute your efforts. I’ve no words to tribute your courage.

    Like

  2. Wow wow, buhat khoobsurat likha hy Misa, fan of your Likhaai now..
    Phuss phuss wali machine :p
    Aur haan I total endorse your stance regarding Girls/woman thing u written. 🙂

    Liked by 1 person

  3. Apki kahani prh k PR mein sath sath roi bhi aur khoob hansi bhi . ye kahani mjhe meri apni kahani lgi ..blkay ye hai hi meri kahaani..Bs farq ye hai k wo pehla qadam uthana baqi h Jo ap ne Mir poor khaas se uthaya hai !
    Allah se Roz Dua krti hu…mein haqiqatan ek boond k liye Taras rhi hu aur wo mjhe shayad samandar Dene k bandobast mein hai.Bs mjhe jald as jald ata kare. Ameen
    AGR ap email k zriye mjhe apna contact number de dey tau wo pehla qadam uthanay ki buhat asani hojayegi. Musafir e shab meri frindlist mei hain..raabta kijyea !

    Liked by 1 person

  4. Proud of you sister. So next kiya plan hy….everest or K2? Mental strength, soft skills and optism, pave path for a safisfied life.

    Like

  5. its really story of courage. . . . but be safe. . . after all this is male dominant society. . .
    جہاں گردی کا شوق بہت برا ہے، اب یہ چین سے بیٹھنے نہیں دے گا۔

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s